لاہور( پی این ایچ)ٹیکس ایجوکیشن اینڈ لرننگ کے چیئرمین قاری حبیب الرحمن زبیری نے کہا ہے کہ حکومت سپر ٹیکس کی حد 500ملین سے شروع کرے،150 ملین روپے پر سپر ٹیکس کی وصولی سے کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا ہو گا،ایف بی آر کو زبردستی بنکوں سے رقم نکلوانے سے روکا جائے ،سمت درست نہ ہونے کی وجہ سے ایف بی آر کو ہر ماہ ریو نیو اہداف کے حصول میں شارٹ فال کا سامنا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹیکس نظام پر مبنی مذاکرے سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔اس موقع پر صدر زوہیب الرحمن زبیری،سینئر نائب صدر عاشق علی رانا،نائب صدور واصف علی شیخ،تابش علی جاوید،جنرل سیکرٹری سید حسن علی قادری،فنانس سیکرٹری سیف الرحمن زبیری اورجوائنٹ سیکرٹری عبدالرحمن سمیت دیگر بھی موجود تھے۔حبیب الرحمن زبیری نے کہا کہ ہراساں اور خوفزدہ کرکے وقتی طور پر تو ٹیکس وصولی کی جاسکتی ہے لیکن یہ دیرپا نہیں،موجودہ حالات میں حکومت اور ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کے ساتھ نرمی برتنی چاہیے اور ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاچاہیے تاکہ نئے لوگ ٹیکس نیٹ میشامل ہوں ۔ انہوںنے کہا کہ حکومت نے سپر ٹیکس کو 2022میں آرڈیننسکا حصہ بنایا تھا جس پر ٹیکس دہندگان عدالتوں میں گئے اور ریلیف لیا ،اب وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد چار سال کا اکٹھا سپر ٹیکس ادا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں،سپر ٹیکس پر ڈیفالٹ سرچارج علیحدہ ہے جسے فوری ختم ہونا چاہیے اور سپر ٹیکس کی حد 150ملین کی بجائے 500ملین سے شروع ہونا چاہیے ۔
سپر ٹیکس پر عائد ڈیفالٹ سرچارج ختم کیا جائے ‘ ٹیکس ایجوکیشن اینڈ لرننگ
