مقبوضہ کشمیر،بھارتی مظالم میں اضافہ،قتل کے سانحات

سرینگر (پی این ایچ) غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی قابض فورسزکی طرف سے کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے مقبوضہ علاقے میں گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران جنوری کے مہینے میں قتل عام کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشمیریوں کے نسل کشی کا سلسلہ 1990 میں 19 جنوری کو سرینگر کے علاقے مگرمل باغ قتل عام سے شروع ہواتھا۔ بھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے اس دن اندھا دھند فائرنگ کر کے 14 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر دیا تھا۔بھارتی فوجیوں نے 1990میں جنوری کے ہی مہینے میں گائوکدل میں 50سے زائد پر امن مظاہرین کو قتل کردیاتھاجبکہ ہندواڑہ میں 25کشمیریوں کو شہید کیاگیاتھا ۔ 1993کے سانحہ سوپور میں 60کشمیریوںکو شہید اور پورے قصبے کو راکھ کا ڈھیر بنا دیاگیاتھا۔ 1994میں بھارتی یوم جمہوریہ کے ایک دن بعد سانحہ کپواڑہ میں 27کشمیریوں کو شہیدکیاگیاتھا۔اطلاعات کے مطابق جنوری 1990سے لے کر اب تک کشمیریوں کے قتل عام کے کم سے کم 30 سانحات میں 634شہریوں کو شہید جبکہ اربوں روپے مالیت کی املاک تباہ ہو چکی ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے شہدا کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت تمام تر ظلم و بربریت کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے میں ناکام رہاہے اور مقبوضہ علاقے میں رونما ہونے والے کشمیریوں کے قتل عام کے تمام سانحات کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ادھر بھارتی پولیس کی طرف سے پورے مقبوضہ علاقے میں مساجد ، علمائے دین اور انتظامی کمیٹیوں کی سخت پروفالنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ قابض انتظامیہ ریکارڈ اپ ڈیٹ کرنے کی آڑ میں ائمہ مساجد اور علمائے کرام کی ذاتی اور نظریات سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہی ہے جس پر مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔کشتواڑ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک حملے میں بھارتی فوج کا ایک حوالدار ہلاک اور ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت سات اہلکار زخمی ہوگئے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ نے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی شناخت اور کشمیریوں کے جمہوری حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ لداخ کے غیر قانونی طورپر نظربند ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ نے کہاہے کہ مودی حکومت انکے شوہر کی نظر بندی کو طول دینے کے لیے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔ لداخ سمیت جموں و کشمیر کے بعض حصوں میں 5.7شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ تاہم زلزلے سے کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔